غزوہ حنین سے پہلے کا منظر۔
﷽۔
غزوہ حنین سے پہلے کا منظر۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر کو پہنچے، تو نبوت کا اعلان فرمایا - اعلان نبوت کے بعد بہت سے کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے دشمن ہو گئے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف طریقوں سے اذیتیں دینے لگے- جب مسلمانوں نے مدینہ میں زور پکڑا، تو اللہ تعالی کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت فرما گئے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے خلاف بہت سے معرکے لڑے- جن میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی- ان میں چند مشہور اور غزوہ یہ ہے
فتح مکہ فتح خیبر
غزوہ خندق غزوہ حنین واقعہ
مکرمہ سے تین رات کی مسافت پر
غزوہ احد غزوہ بدر غزوہ احزاب غزوہ تبوک
غزوہ حنین کا
حنین ایک چشمے کا نام ہے جو مکہ
واقع ہے اور طائف کے قریب ہے۔ سن ہجری
حنین اس جگہ کے پر رہنے والے قبیلے کا نام ہے ہی ہجرت کے آٹھویں سال پیش
آیا۔
عسکری نقطہ نگاہ سے سب سے بڑا اور اہم معرکہ ہے یہ وہ آخری معرکہ ہے جس میں مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح حاصل کی۔۔
تعداد افواج
اس معرکہ معرکے میں 20 ہزار بار شامل تھے اور بارہ ہزار کا مسلمانوں کا لشکر تھا۔ تاریخ اسلام میں اس جنگ کا دوسرا نام غزوہ ہوازن بھی ہے۔ اس لیے کہ اس لڑائی میں
بنی ہوازن سے تھا۔ مکہ اور طائف کی درمیان وادی میں بنو ہوازن اور بنو ثقیف دو قبیلے آباد تھے۔ یہ بڑے بہادر، جنگجو اور فنون جنگ سے واقف سمجھے جاتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد بھی انہوں نے اسلام قبول نہ کیا ان لوگوں نے یہ خیال قائم کر لیا کہ فتح
مکہ کے بعد ہماری باری ہے اس لیے ان لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ مسلمانوں پر جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں ایک زبردست حملہ کر دیا جائے۔
چنانچہ حضور صلى الله عليه وسلمنے عبد اللہ بن ابی حدرد کو تحقیقات کے لیے بھیجا۔ جب انہوں نے وہاں سے واپس آکر ان قبائل کی جنگی تیاریوں کا حال بیان کیااور بتایا کہ قبیلہ بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے اپنے تمام قبائل کو جمع کر لیا ہے اور قبیلہ ہوازن کا رئیس اعظم مالک بن عوف ان تمام افواج کا سپہ سالار ہے اور سو برس سے زائد عمر کا بوڑھا۔ درید بن الصمہ جو عرب کا مشہور شاعر اور مانا ہوا بہادر تھا بطور مشیر کے میدا ِن جنگ میں لایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنی عورتوں بچوں بلکہ جانوروں تک کو میدا ِن جنگ میں لائے ہیں تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگنے کا خیال بھی نہ کرسکے۔۔ نبی کریم 8 ہجری میں بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ ان کے مقابلے کو نکلے۔ ان میں دو ہزار سے زائد نو مسلم اور چند غیر مسلم بھی شامل تھے۔ دشمنوں نے اسلامی لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر سنی تو وادی حنین کے دونوں جانب کمین گاہوں سے اس زور کی تیر اندازی کی کہ مسلمان سراسیمہ ہو گئے۔
مکہ کے نو مسلم افراد سب سے پہلے مقابلہ ہراساں ہو کر بھاگے۔ ان کو دیکھ کر مسلمان بھی منتشر ہونا شروع ہو گئے۔ حضور کے ساتھ چند جاں نثار صحابہ میدان میں رہ گئے اور بہادری سے لڑتے رہے۔ خود رسول اللہ تلوار ہاتھ میں لے کر رجز پڑھ رہے تھے۔ ’’انا النبی لاکذب انا ابن عبد المطلب‘‘ آپ کی ثابت قدمی اور شجاعت نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور یہ مٹھی بھر آدمی دشمن کے سامنے ڈٹے رہے۔ حضور کے حکم سے حضرت عباس نے نام لے کے مہاجرین و انصار کو بلایا۔ اس آواز پر مسلمان حضور گرد اکھٹے ہو گئے اور اس شدت سے جنگ شروع ہوئی کہ لڑائی کا رنگ بدل گیا۔ کفار مقابلے کی تاب نہ لاسکے اور بھاگ نکلے۔ بنو ثقیف نے طائف کا رخ کیا۔ بنو ہوازن اوطاس میں جمع ہوئے لیکن مسلمانوں نے اوطاس میں انہیں شکست دی۔ مسلمانوں کو شاندار کامیابی ہوئی اور دشمن کے ہزاروں آدمی گرفتار ہوئے۔
دس ہزار تو مہاجرین و انصار وغیرہ کا وہ لشکر تھا جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آیا تھا اور دو ہزار نومسلم تھے جو فتح مکہ میں مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعال ٰی علیہ وسلمنےاسلشکرکوساتھلےکراسشانوشوکتکےساتھحنینکا ُرخکیاکہ
اسلامی افواج کی کثرت اور اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر بے اختیار بعض صحابہ کی زبان سے یہ لفظ نکل گیا کہآج بھلا ہم پر کون غالب آ سکتا ہے۔ لیکن خداو ند عالم کو
کچھ لوگوں کا اپنی فوجوں کی کثرت پر ناز کرنا پسند نہیں آیا۔ چنانچہ اس فخر و نازش کا
یہ انجام ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے تیر اندازوں نے جو تیروں کی بارش کی اورہزاروں کی تعداد میں تلواریں لے کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے تو وہ دو ہزار نو مسلم اور کفار مکہ جو لشکر اسلام میں شامل ہو کر مکہ سے آئے تھے ایک دم سرپر پیر رکھ کر بھاگ نکلے۔ ان لوگوں کی بھگدڑ دیکھ کر انصار و مہاجرین بھی پریشان ہو گئے۔ حضور تاجدار دوعالم صلى الله عليه وسلم کے پائے استقامت میں بال برابر بھی لغزش نہیں ہوئی۔ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم اکیلے ایک لشکر بلکہ ایک عالم کائنات کا مجموعہ بنے ہوئے نہ صرف پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے بلکہ اپنے سفید خچر پر سوار برابر آگے ہی بڑھتے رہے اور آپ صلى الله عليه وسلم
کی َزبا ِن مبارک پر یہ الفاظ جاری تھے کہ
“ اَنَاالنَِّبُّیَلََکِذْباَنَااْبُن َعْبِداْلُمَّطِلْب ”
میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ اسی حالت میں آپصلى الله عليه وسلم نے دا ہنی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پکارا کہ َیا َم ْع َش َر کفار نے فْو ًرا آواز آئی کہ ہم حاضر ہیں،یا رسول االلہ! صلى الله عليه وسلم پھر بائیں جانب رخ کرکے فرمایا کہ َیا لَل ُم َھا ِج ِر ْی َن فوراً آواز آئی کہ ہم حاضر ہیں،یا رسول االلہ! صلى الله عليه وسلم، عباس چونکہ بہت ہی بلند آواز تھے۔ آپ نے ان کو حکم
کا اور َیالَْلُمَھاِجِرْیَندیاکہانصارومہاجرینکوپکارو۔انہوںنےجو َیا َمْع َشَراْلاَْن َصار نعرہ مارا تو ایک دم تمام فوجیں پلٹ پڑیں اور لوگ اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑ پڑے کہ جن لوگوں کے گھوڑے ازدہام کی و جہ سے نہ مڑ سکے انہوں نے ہلکا ہونے کے لیے اپنی زرہیں پھینک دیں اور گھوڑوں سے کود کر دوڑے اور کفار کے لشکر پر جھپٹ پڑے اور اس طرح جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے کہ دم زدن میں جنگ کا پانسا پلٹ گیا۔ کفار بھاگ نکلے کچھ قتل ہو گئے جو رہ گئے گرفتار ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کی فوجیں بڑی بہادری کے ساتھ جم کر مسلما نو ں سے لڑتی رہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ستر بہادر کٹ گئے۔ لیکن جب ان کا علمبردار عثمان بن عبد االلہ قتل ہو گیا تو ان کے پاؤں بھی اُکھڑ گئے۔ اور فتح مبین نے حضور رحمۃ للعالمین صلى الله عليه وسلم کے قدموں کا بوسہ لیا اور کثیر تعداد و مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔


Comments
Post a Comment